فهرس الكتاب

الصفحة 225 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: جو یہ کہتا ہے کہ جنبی وضو کرے!

225 حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْجُنُبِ, إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ نَامَ أَنْ يَتَوَضَّأَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: بَيْنَ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَابْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: الْجُنُبُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ.

سیدنا عمار بن یاسر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جنبی آدمی کے لیے رخصت دی ہے کہ جب وہ کچھ کھانا پینا چاہے یا سونا چاہے تو وضو کر لیا کرے ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں یحییٰ بن یعمر اور عمار بن یاسر کے مابین ایک آدمی کا واسطہ ہے ( یعنی حدیث منقطع ہے ) اور سیدنا علی بن ابی طالب ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ؓم نے کہا جنبی جب کھانا چاہے تو وضو کرے ۔

یہ روایت سندًااگرچہ منقطع ہے 'مگرمعنٰی ثابت ہےجیسےکہ گزشتہ احادیث سےثابت ہواہے کہ جنبی اپناغسل مؤخرکرناچائیےتومستحب ومؤکدیہی ہے کہ نمازوالا وضوکرلے۔ اورجنبی رہنےاور (کم ازکم) ترک وضو کواپنی عادت نہ بنائے'مگرکھانے پینےکےلیےصرف ہاتھ دھولینابھی کافی ہے۔ مزیدپیش آمدہ احادیث دیکھیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت