فهرس الكتاب

الصفحة 2255 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: لعان کے احکام و مسائل

2255 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشُّعَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَمَرَ رَجُلًا -حِينَ أَمَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَتَلَاعَنَا-، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ، يَقُولُ: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ.

سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب لعان کرنے والوں سے قسمیں کھانے کو کہا تو پانچویں قسم کے وقت آپ نے ایک شخص سے فرمایا " اس مرد کے منہ پر ہاتھ رکھو ۔ اسے کہو یہ واجب کرنے والی ہے ( اﷲ کے غضب ، لعنت اور عذاب کو ) ۔

قاضی کو چاہیے کہ موقع بموقع فریقین کو قسم کے اقدام سے باز رہنے کی تلقین کرےکیونکہ دنیا کی عار اور یہاں کی سزا تو عارضی ہے مگر اللہ کی لعنت اور غضب دائمی ہے۔لاحول ولا قوه الا باالله۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت