فهرس الكتاب

الصفحة 2257 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: لعان کے احکام و مسائل

2257 حَدَّثَنَاأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: >حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَالَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا, فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا, فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ.

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لعان کرنے والوں کو کہا " تمہارا حساب اﷲ کے پاس ہے ۔ تم دونوں میں سے ایک تو جھوٹا ہے ۔ اور ( شوہر سے کہا کہ ) تجھے اس پر کوئی حق حاصل نہیں رہا ۔ " اس نے کہا: اے اﷲ کے رسول ! میرا مال ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " تیرے لیے کوئی مال نہیں ۔ اگر تو سچا ہے تو وہ اس کا بدل ہے جو تو نے اس کی عصمت کو حلال کیا ۔ اور اگر اس پر جھوٹ بولا ہے تو وہ تیرے لیے اور بھی بعید تر ہے ۔ " ( ایک طرف تہمت لگائے اور اس پر مزید یہ کہ مال بھی مانگے ) ۔

لعان کی صورت میں شوہرکوحق سے کچھ نہیں ملے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت