فهرس الكتاب

الصفحة 2271 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: ان حضرات کی دلیل جو بچے کے متعلق تنازع میں قرعہ سے فیصلے کے قائل ہیں

2271 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ عَنِ الْخَلِيلِ- أَوِ: ابْنِ الْخَلِيلِ- قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ مِنْ ثَلَاثَةٍ، نَحْوَهُ.. لَمْ يَذْكُرِ الْيَمَنَ، وَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا قَوْلَهُ: طِيبَا بِالْوَلَدِ.

خلیل یا ابن خلیل سے مروی ہے کہ سیدنا علی ؓ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس نے تین مردوں سے بچہ جنم دیا ۔ ( تینوں نے اس سے صحبت کی تھی ) اور مذکورہ بالا کی مانند بیان کیا ۔ اس روایت میں یمن کا یا نبی کریم ﷺ کا ذکر نہیں اور نہ یہ ہے کو خوشی خوشی بچے سے دست بردار ہو جاؤ ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت