فهرس الكتاب

الصفحة 2296 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: فاطمہ بنت قیس کی روایت کا انکار کرنے والوں کا بیان

2296 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقُلْتُ: فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طُلِّقَتْ، فَخَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا؟ فَقَالَ سَعِيدٌ: تِلْكَ امْرَأَةٌ فَتَنَتْ النَّاسَ, إِنَّهَا كَانَتْ لَسِنَةً، فَوُضِعَتْ عَلَى يَدَيْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى.

میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو سعید بن مسیب کے ہاں پہنچا میں نے کہا: فاطمہ بنت قیس کو طلاق ہوئی تو وہ اپنے گھر سے منتقل ہو گئی تھی ، تو سعید نے کہا: اس عورت نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا ہوا تھا ، بہت زبان دراز تھی تو اسے ابن مکتوم نابینا کے ہاں رہائش دی گئی ۔

یہ روایت ضعیف ہے گویا اس میں ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہونے کی جو وجہ بیان کی گئی ہے ،وہ صحیح نہیں ہے اس کی وجہ وہی ہے جو صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہے کہ ابن ام مکتوم بصارت سے محروم تھے تو وہاں اس کے لئے پردے کی پابندی ضروری نہیں تھی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت