فهرس الكتاب

الصفحة 2312 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: زنا کی برائی کا بیان

2312 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ-: عَنْ أَبِيهِ {وَمَنْ يُكْرِهُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور: 33] ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ: غَفُورٌ لَهُنَّ: الْمُكْرَهَاتِ.

معتمر اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے بیان کرتے ہیں کہ آیت کریمہ «ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم» کی تفسیر میں سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ " مجبور کردہ لونڈیوں کے لیے غفور رحیم ہے ۔ "

یہ ایک تابعی قول ہے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کے پاس کئی لونڈیاں تھیں ان میں سے ایک کانام مسیکہ تھا وہ ان سے بدکاری کراکے آمدنی حاصل کرتا تھا ۔ ان لونڈیوں نے اسلام قبول کرلیا تو اس عمل شنیع سے انکار لرنے لگیں مگر وہ ان پر جبر کرتا تھا توا سی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی یعنی زنا ویسے ہی انتہائی قبیح اور بے حیائی کاکام ہے تواس کام کے لئے کسی مجبور کرنا اور بھی براہے البتہ جس پر زبردستی کی گئی ہو اس کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے معافی ہے مگر جبر کرنے والا اپنے آپ کو کیسے بچا سکے گا ؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت