فهرس الكتاب

الصفحة 2316 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية» کے منسوخ ہونے کا بیان

2316 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} [البقرة: 184] ، فَكَانَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يَفْتَدِيَ بِطَعَامِ مِسْكِينٍ افْتَدَى، وَتَمَّ لَهُ صَوْمُهُ، فَقَالَ: {فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ} [البقرة: 184] ، وقَالَ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ} [البقرة: 185] .

عکرمہ سے منقول ہے کہ سیدنا ابن عباس ؓ آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ جو کوئی ایک مسکین کا فدیہ دینا چاہتا ، دے دیتا تھا اور اس کا روزہ پورا اور کامل سمجھا جاتا تھا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فمن تطوع خيرا فهو خير له وأن تصوموا خير لكم» " جو خوشی سے بھلائی کرے ( مسکین کو کھانا کھلائے ) تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے ۔ " اور فرمایا «من شهد منكم الشهر فليصمه ومن كان مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر» " جو شخص اس مہینے میں حاضر ہو تو اسے چاہیئے کہ اس کے روزے رکھے ۔ اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں ان کی گنتی پوری کرے ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت