فهرس الكتاب

الصفحة 2366 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: روزے دار پیاس کی وجہ سے اپنے اوپر پانی ڈالے تو کوئی حرج نہیں مگر ناک میں پانی ڈالنے میں احتیاط کرے اور مبالغہ نہ کرے

2366 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:َ >بَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ, إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا.

سیدنا لقیط بن صبرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " ( وضو کرتے ہوئے ) ناک میں خوب پانی چڑھاؤ ، سوائے اس کے کہ روزے سے ہو ۔ "

روزے کی حالت میں ناک میں دوائی نہیں ڈالی جا سکتی لیکن گردوغبار یا آٹے وغیرہ کی دھول کا اندر چلے جانا معاف ہے۔ خوشبو سونگھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ آنکھ اور کان میں دوا ڈالنا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت