فهرس الكتاب

الصفحة 2384 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: روزے کی حالت میں بوسہ لینا

2384 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ الْقُرَشِيَّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرا بوسہ لیا کرتے تھے جبکہ آپ روزے سے ہوتے اور میں بھی ۔

(1) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ بات صحیح احادیث میں بھی بیان ہوئی ہے، اسی لیے شیخ البانی رحمة اللہ علیہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ میاں بیوی کے لیے روزے کی حالت میں بوس و کنار جائز ہے مگر لازمی ہے کہ اپنے جذبات پر ضبط رکھنے والے ہوں۔ اگر حد سے بڑھنے کا اندیشہ ہو تو اس عمل سے بچنا لازمی ہے۔ (2) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنے ان مخفی امور کو ذکر کرنا شرعی ضرورت کی بنا پر ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کثرت ازدواج کی ایک حکمت یہ بھی رہی ہے کہ زوجین اور اندرون خانہ کی شرعی زندگی امت کے سامنے آئے اور ان کے لیے ہدایت اور اسوہ ثابت ہو۔ اگر یہ حقائق بیان نہ ہوتے تو دین کا بڑا حصہ ہم سے اوجھل رہتا اور بڑی آزمائش ہوتی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت