2393 حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ... بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ قَدْرُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَقَالَ فِيهِ: >كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ، وَصُمْ يَوْمًا، وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ.
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا جس نے رمضان کے دن میں روزہ توڑ لیا تھا ، اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی ۔ راوی نے کہا: پھر آپ ﷺ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا ، اس میں کھجور تھی تقریبًا پندرہ صاع ۔ اس روایت میں ہے ۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا " تو اور تیرے گھر والے یہ کھا لیں اور تو ایک دن کا روزہ رکھ اور اللہ سے استغفار کر ۔"
روزہ توڑنے پر قضا ادا کرنا واجب ہے۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ کا ایک قول ہے کہ اگر دو ماہ روزے رکھے تو قضا ادا کرنا نہیں ہے، لیکن گردن آزاد کرانے یا مساکین کو کھانا کھلانے کی صورت میں قضا ادا کرنا واجب ہے۔