فهرس الكتاب

الصفحة 2404 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: سفر میں روزہ رکھنے کے احکام و مسائل

2404 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ, لِيُرِيَهُ النَّاسَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.

سیدنا ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے حتیٰ کہ مقام غسفان پر پہنچ گئے ، پھر آپ ﷺ نے برتن منگوایا اور اسے اپنے منہ کی طرف بلند کیا تاکہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھ لیں ( کہ آپ ﷺ افطار کر رہے ہیں ) اور یہ رمضان کا واقعہ ہے ۔ چنانچہ ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ بلاشبہ نبی کریم ﷺ نے روزہ رکھا ہے اور چھوڑا بھی ، سو جو چاہے رکھ لے اور جو چاہے افطار کر لے ۔

(1) یہ واقعہ فتح مکہ کے سفر کا ہے۔ (2) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے سفر میں صبح کو روزے کی نیت کی ہو تو شرعی عذر سے کسی وقت اگر وہ افطار کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت