241 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ صَدَقَةَ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ- أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ-، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَتْهَا إِحْدَاهُمَا: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضُّفُرِ.
جناب جمیع بن عمیر اور یہ بنی تیم اللہ بن ثعلبہ کے خانوادے سے ہیں کہتے ہیں کہ میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓا کے ہاں آیا تھا ۔ ان دونوں میں سے ایک نے ان سے پوچھا کہ غسل میں آپ لوگ کیسے کرتے ہیں ؟ تو سیدہ عائشہ ؓا نے کہا: نبی کریم ﷺ ( پہلے ) نماز کے وضو کی طرح کا وضو کرتے پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے تھے ، مگر ہم اپنی چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار ڈالتی تھیں ۔
یہ روایت ضعیف ہے'آگےحدیث251آرہی ہے'اس سےواضح ہےکہ عورت بھی مردکی طرح سرپرتین مرتبہ ہی پانی ڈالے۔