فهرس الكتاب

الصفحة 2414 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: کتنی مسافت کے سفر میں افطار کر سکتا ہے ؟

2414 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْغَابَةِ، فَلَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْصِرُ .

جناب نافع ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓ غابہ کی طرف تشریف لے جاتے تو اس سفر میں نہ افطار کرتے اور نہ قصر ۔

(غابه) مدینے سے شام کی طرف بالائی جانب ایک جگہ کا نام ہے جو تقریبا ایک برید (چار فرسخ/تقریبا 22 کلو میٹر) دور ہے۔ اتنی مسافت پر قصر جائز ہے اور افطار بھی جائز ہے، لیکن اگر کوئی شخص قصر کرتا ہے نہ افطار، تو یہ بھی جائز ہے۔ کیونکہ قصر و افطار فرض نہیں ہے، بلکہ ایک رخصت ہے، جس سے فائدہ اٹھانا افضل ہے، لیکن فرض وواجب بہرحال نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت