فهرس الكتاب

الصفحة 2446 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: یہ روایت کہ عاشورا نویں محرم ہے

2446 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ غَلَّابٍ ح، وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ جَمِيعًا الْمَعْنَى عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟ فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ التَّاسِعِ, فَأَصْبِحْ صَائِمًا، فَقُلْتُ: كَذَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ؟ فَقَالَ: كَذَلِكَ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ.

حکم بن اعرج بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ مسجد الحرام میں اپنی چادر کا تکیا بنائے ہوئے تھے ۔ میں نے ان سے عاشورائے محرم کے روزے کے متعلق پوچھا ۔ آپ نے فرمایا جب تم محرم کا چاند دیکھو تو شمار کرو ، جب نویں تاریخ ہو تو روزہ رکھو ۔ میں نے کہا: کیا محمد ﷺ ایسے ہی روزہ رکھا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ ایسے ہی روزہ رکھا کرتے تھے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملا تو نویں تاریخ کا روزہ نہیں رکھا مگر آپ کا عزم یہی تھا۔ اسی پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ اور مطلوب بھی یہی ہے کہ نویں دسویں یا دسویں گیارھویں کا روزہ رکھا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت