2475 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ بِإِسْنَادِهِ، نَحْوَهُ... قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ قَالَ: سَبْيُ هَوَازِنَ, أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ.
عبداللہ بن بدیل نے ( یہی روایت ) اپنی سند سے اسی کی مانند روایت کی اس میں اضافہ ہے کہ سیدنا عمر ؓ اعتکاف میں تھے کہ لوگوں کے یکایک تکبیر بلند کی ۔ انہوں نے پوچھا: اے عبداللہ ( ابن عمر ) ! یہ کہا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہوازن کے قیدیوں کو رسول اﷲ ﷺ نے آزاد کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا: تو اس لونڈی کو بھی ( جو سیدنا عمر ؓ کے پاس تھی ) ان کے ساتھ چھوڑ دو ۔
اثنائے اعتکاف میں صدقہ و خیرات اور اس طرح کا مالی تصرف باعث اجر ہے۔