فهرس الكتاب

الصفحة 2491 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: سمندر میں غزوے کی فضیلت

2491 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، وَجَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ... وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ.

قَالَ أَبو دَاود: وَمَاتَتْ بِنْتُ مِلْحَانَ بِقُبْرُصَ.

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قباء تشریف لے جاتے ، تو ام حرام بنت ملحان ؓا کے ہاں بھی جاتے اور وہ سیدنا عبادہ بن صامت ؓ کی زوجیت میں تھیں ۔ آپ ایک دن ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا اور پھر بیٹھ کر آپ کے سر سے جوئیں تلاش کرنے لگیں ۔ اور یہی مذکورہ حدیث بیان کی ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں ، بنت ملحان کی وفات قبرص میں ہوئی تھی ۔

1۔ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ام حرام رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے محارم میں سے تھیں۔کچھ نے ان کو آپﷺ کی رضاعی خالہ بتایاہے۔اور کئی کہتے ہیں۔یہ آپ کے والد یا دادا کی خالہ تھیں۔2۔نبی کا خواب اور پیشن گویئاں سب وحی پر مبنی ہوتی ہیں۔3۔آپﷺ کے دوسرے خواب میں آپ کو کوئی دوسرے لوگ دکھائے گئے تھے۔اس لئے آپ ﷺنے ام حرام سے فرمایا۔کہ تم پہلے لوگوں میں سے ہوگی۔4۔سفر جہاد میں موت جس کیفیت میں بھی آئے مبارک ہوتی ہے۔5۔اس میں یہ پیش گوئی تھی کہ یہ امت بر (خشکی) کے علاوہ بحر (سمندر) میں بھی جہاد کرے گی جوکہ ثابت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت