2518 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ أَبِي وَائِلٍ حَدِيثًا أَعْجَبَنِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
عمرو بن مرہ نے کہا کہ میں نے ابووائل سے حدیث سنی جو مجھے بہت پسند آئی ۔ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔
اگر مجاہد کی اصل نیت اللہ کا کلمہ بلند کرنا ہوتو دیگر اغراض سے اس کے اجر میں کمی آجاتی ہے امام بخاری نے اس حدیث کو اس عنوان کے تحت درج کیا ہے ۔ (باب من قاتل للمغنهم هل ينقص من اجره) (صحیح البخاری فرض الخمس باب 10) کیا جو شخص غنیمت کے لئے قتال کرے اس کا اجر کم ہو جاتا ہے۔