فهرس الكتاب

الصفحة 2667 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: مقتول کی ناک کان وغیرہ کاٹنا ناجائز ہے

2667 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْهَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ، أَنَّ عِمْرَانَ أَبَقَ لَهُ غُلَامٌ، فَجَعَلَ لِلَّهِ عَلَيْهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ, لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ، فَأَرْسَلَنِي لِأَسْأَلَ لَهُ، فَأَتَيْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ فَسَأَلْتُهُ؟ فَقَال: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ، فَأَتَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَسَأَلْتُهُ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ.

سیدنا ہیاج بن عمران سے مروی ہے ( کہتے ہیں ) کہ ( میرے والد ) عمران کا ایک غلام بھاگ گیا تو اس نے اللہ کی قسم کھائی کہ اگر وہ میرے ہاتھ آ گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں گا ۔ پس اس نے مجھے ( ہیاج کو ) بھیجا کہ یہ مسئلہ پوچھوں ۔ تو میں سیدنا سمرہ بن جندب ؓ کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا ، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمیں صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے اور ( مقتول کا ) مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ میں پھر سیدنا عمران بن حصین ؓ کے پاس آیا اور ان سے بھی دریافت کیا ، تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں صدقہ دینے کی ترغیب دیا کرتے تھے اور مقتول کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے ۔

مقتول کو قتل کرنے کے بعد اس کے اعضاء کاٹنا یا اس کی شکل بگاڑنا ناجائز ہے۔اورایسے ہی قتل سے پہلے بھی یہ عمل ناجائز ہے۔الایہ کہ قصاص کی کوئی صورت ہو۔جیسے قبیلہ عکل وعرینہ کے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت