فهرس الكتاب

الصفحة 2674 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: دشمن کو آگ میں جلانا ناجائز ہے

2674 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ وَقُتَيْبَةُ أَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، فَقَالَ: >إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا< فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک مہم پر روانہ کیا اور فرمایا " اگر تم فلاں فلاں کو پاؤ ۔ " اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔

کسی قیدی یا مجرم کو آگ سے جلانا ناجائز اور حرام ہے۔ البتہ جنگی مصالح کے پیش نظر قلعوںاور عمارتوں وغیرہ کو جلانے میں کوئی حرج نہیں۔اور یہی حکم گولہ بارود اور بمباری کا ہے۔اوراگراس کی ذد میں کوئی آجائے تو معاف ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت