فهرس الكتاب

الصفحة 2743 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: لشکر کے ایک دستے کو اضافی انعام دینا جس نے بڑے لشکر سے علیحدہ کوئی مہم سر کی ہو

2743 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيَّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، فَخَرَجْتُ مَعَهَا، فَأَصَبْنَا نَعَمًا كَثِيرًا، فَنَفَّلَنَا أَمِيرُنَا بَعِيرًا, بَعِيرًا لِكُلِّ إِنْسَانٍ، ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَ بَيْنَنَا غَنِيمَتَنَا، فَأَصَابَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا بَعْدَ الْخُمُسِ، وَمَا حَاسَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَعْطَانَا صَاحِبُنَا، وَلَا عَابَ عَلَيْهِ بَعْدَ مَا صَنَعَ، فَكَانَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا ثَلَاثَةَ عَشَرَ بَعِيرًا, بِنَفْلِهِ

سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دستہ نجد کی جانب روانہ کیا ، میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔ ہمیں بہت سے جانور ہاتھ آئے تو ہمارے امیر نے ہم میں سے ہر ہر شخص کو ایک ایک اونٹ بطور نفل دیا ۔ پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور آپ ﷺ نے ہم میں ہماری غنیمتیں تقسیم کیں تو ہم میں سے ہر ہر شخص کو خمس نکالنے کے بعد بارہ بارہ اونٹ ملے اور ہمارے امیر نے جو ہمیں دیا تھا اس کا رسول اللہ ﷺ نے کوئی محاسبہ نہ فرمایا اور نہ اس کی کاروائی پر کوئی عیب لگایا ، اس طرح ہمیں نفل سمیت تیرہ تیرہ اونٹ ملے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت