فهرس الكتاب

الصفحة 2746 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: لشکر کے ایک دستے کو اضافی انعام دینا جس نے بڑے لشکر سے علیحدہ کوئی مہم سر کی ہو

2746 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي ح حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ، قَالَ:، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةَ النَّفَلِ، سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ، وَالْخُمُسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلُّهُ

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ( بڑے لشکر میں سے ) جب چھوٹے دستوں کو بھیجتے تو ان لوگوں کو عام لشکر میں تقسیم ہونے والی غنیمت کے علاوہ خاص نفل ( اضافی انعام ) بھی دیا کرتے تھے ۔ اور خمس مجموعی غنیمت میں سے نکالنا واجب ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت