2764 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَتُجِيرُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، فَيَجُوزُ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ ( دور رسالت میں ) عورت کسی کو مومنوں سے پناہ دے دیتی تو وہ جائز اور قبول ہوا کرتی تھی ( مسلمان اسے قتل نہ کر سکتے تھے ) ۔
مسلمانوں میں سے کوئی ادنیٰ آدمی بھی اگر کسی کافر کو امان دے دے توسب پرلازم ہے۔کہ اس کی امان کا لحاظ کریں۔