فهرس الكتاب

الصفحة 2863 من 5274

کتاب: وصیت کے احکام و مسائل

باب: وصیت کرنے کی تاکید

2863 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا شَاةً، وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کوئی دینار ' درہم یا اونٹ ' بکری نہیں چھوڑ گئے اور نہ کسی چیز کے متعلق وصیت ہی فرمائی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت امورشریعت سے متعلق ثابت شدہ ہے۔بالخصوص نماز کی پابندی غلاموں کے ساتھ حسن سلوک مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکالنا اور وفود کے ساتھ حسن معاملہ وغیرہ۔لیکن مالی امور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی وصیت نہ تھی۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال چھوڑا ہی نہیں تھا۔ (سنن ابی دائود۔الخراج۔حدیث 3029۔والادب۔حدیث 5156۔ وصحیح البخاری الجذیہ 3168)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت