فهرس الكتاب

الصفحة 2902 من 5274

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

باب: ذوی الارحام کی وراثت کا بیان

2902 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ سُفْيَانَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ و قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا أَحَدٌ مَنْ أَهْلِ أَرْضِهِ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَأَعْطُوهُ مِيرَاثَهُ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ایک غلام فوت ہو گیا اور کچھ مال چھوڑ گیا ' اس کی کوئی اولاد اور کوئی رشتہ دار نہ تھا ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اس کی وراثت اس کی بستی والوں میں سے کسی کو دے دو ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں: سفیان ؓ کی روایت زیادہ کامل ہے ۔ اور مسدد نے کہا: نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا " کیا یہاں کوئی اس کے علاقے کا رہنے والا ہے ؟ " صحابہ نے کہا: جی ہاں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " اس کی وراثت اسی کو دے دو ۔ "

چونکہ غلام کا مال بیت المال میں جانا تھا اوربیت المال میں سے مسلمان رعیت کی مصالح میں خرچ کیا جاتا ہے، اس لیے نبی ﷺ نےاس کی بستی والوں میں سے کسی کودے دینے کافرمایا ۔ کیونکہ اہل بستی کا آپس میں ایک طرح تعلق ہوتاہی ہے۔مگرنئی روشنی اورمادی ترقی کی چکا چوند نے بڑے شہروں میں بالخصوص یہ تعلقات معدوم کر دیے ہیں۔العیاذ باللہ .

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت