2944 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثٌٌ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ قَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي
سیدنا ابن ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر ؓ نے مجھے صدقات کا عامل ( تحصیلدار مال ) بنایا ، جب میں فارغ ہو کر آیا تو آپ نے میرے لیے حق الخدمت ادا کرنے کا حکم دیا ۔ میں نے عرض کیا: یہ کام میں نے اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے ، آپ نے فرمایا جو ملتا ہے لے لو ، میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے دور میں کچھ کام کیا تھا ، تو آپ ﷺ نے مجھے اس کا بدل عنایت فرمایا تھا ۔
واجب ہے۔کہ جس کسی سے کوئی کام لیاجائے۔تو اس کا حق الخدمت بھی ادا کیاجائے۔اس طرح کام کرنے والے پر فی الواقع ایک زمہ داری عائد ہوجاتی ہے۔اور تقصیرکی صورت میں جواب طلبی کا حق بھی موجود رہتاہے۔ورنہ غفلت کر جانے کا پہلوغالب رہے گا۔2۔راوی حدیث کو ابن السعدی بھی کہا گیاہے اور اس کا اصل نام عبد اللہ یا عمرو یا قدامہ روایت ہواہے۔