فهرس الكتاب

الصفحة 295 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: ان حضرات کے دلائل جو قائل ہیں کہ مستحاضہ نمازیں جمع کرے او رہر نماز...

295 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ اسْتُحِيضَتْ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ, أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ، وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ.

قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً اسْتُحِيضَتْ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَمَرَهَا... بِمَعْنَاهُ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل ؓا کو استحاضے کا عارضہ ہو گیا تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئیں ۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کریں ، مگر جب وہ اس سے مشقت میں پڑ گئیں تو انہیں حکم دیا کہ ظہر و عصر کی نماز ایک غسل کے ساتھ جمع کریں اور مغرب و عشاء کو ایک غسل کے ساتھ اور صبح کے لیے ایک غسل کیا کریں ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا اس روایت کو ابن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم ، سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے ۔ کہا: ایک عورت کو استحاضہ ہو گیا ، اس نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا ۔ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت