فهرس الكتاب

الصفحة 2959 من 5274

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل

باب: زمانہ آخر میں بادشاہوں سے کچھ لینا مکروہ ہے

2959 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ إِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ فِيمَا بَيْنَهَا وَعَادَ الْعَطَاءُ أَوْ كَانَ رِشًا فَدَعُوهُ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ذُو الزَّوَائِدِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سلیم بن مطیر نے اپنے والد سے بیان کیا اور یہ وادی القریٰ کا رہنے والا تھا ۔ اس کے والد نے کہا: میں نے ایک صاحب سے سنا ' وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حجتہ الوداع میں سنا ' آپ ﷺ نے لوگوں کو کچھ احکام بیان کیے اور کچھ سے منع فرمایا ' پھر فرمایا " اے اللہ ! میں نے پہنچا دیا ؟ " لوگوں نے کہا: ہاں ' اے اللہ ! ( ہم گواہ ہیں ) پھر آپ ﷺ نے فرمایا " جب اہل قریش آپس میں حکومت کے لیے جھگڑنے لگیں اور عطیے رشوت بن جائیں تو پھر انہیں چھوڑ دینا ۔ " پوچھا گیا کہ یہ بیان کرنے والا کون ہے ؟ تو لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ذوالزوائد ؓ ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت