فهرس الكتاب

الصفحة 3002 من 5274

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل

باب: یہودی مدینہ منورہ سے کیسے نکالے گئے ؟

3002 حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ ابْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي مَوْلًى لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَتْنِي ابْنَةُ مُحَيْصَةَ عَنْ أَبِيهَا مُحَيْصَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَفِرْتُمْ بِهِ مِنْ رِجَالِ يَهُودَ فَاقْتُلُوهُ فَوَثَبَ مُحَيْصَةُ عَلَى شَبِيبَةَ رَجُلٍ مِنْ تُجَّارِ يَهُودَ كَانَ يُلَابِسُهُمْ فَقَتَلَهُ وَكَانَ حُوَيْصَةُ إِذْ ذَاكَ لَمْ يُسْلِمْ وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ مُحَيْصَةَ فَلَمَّا قَتَلَهُ جَعَلَ حُوَيْصَةُ يَضْرِبُهُ وَيَقُولُ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا وَاللَّهِ لَرُبَّ شَحْمٍ فِي بَطْنِكَ مِنْ مَالِهِ

سیدنا محیصہ ( ابن مسعود بن کعب انصاری خزرجی ) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ " جس یہودی پر بھی تمہارا بس چلے اسے قتل کر ڈالو ۔" چنانچہ محیصہ نے ایک یہودی تاجر پر ' جس کا نہ شبیہ تھا ' حملہ کیا اور اسے قتل کر ڈالا جو ان کے ساتھ رہتا تھا اور ( محیصہ کا بھائی ) حویصہ ابھی ان دنوں مسلمان نہیں ہوا تھا اور عمر میں محیصہ سے بڑا تھا ۔ جب اس قتل کر دیا تو حویصہ ، محیصہ کو مارنے لگا اور کہتا تھا اے اللہ کے دشمن ! قسم اللہ کی ! تیرے پیٹ کی بہت سی چربی اسی کے مال کی وجہ سے ہے ( یعنی وہ تیرا محسن ہے اور تو نے اس کو قتل کر ڈالا ہے ) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت