فهرس الكتاب

الصفحة 3038 من 5274

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل

باب: جزیہ لینے کے احکام و مسائل

3038 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ, أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ- يَعْنِي: مُحْتَلِمًا- دِينَارًا، أَوْ عَدْلَهُ مِنَ الْمُعَافِرِيِّ.- ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ

سیدنا معاذ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو ان کو حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا وصول کریں ۔ یہ کپڑا اسی علاقے میں بنا جاتا تھا ۔

ذکواۃ۔فطرانہ۔اور دیگر شرعی واجبات میں حسب سہولت عوض اور بدل لینا دینا جائز ہے۔جیسا کہ یہاں جزیہ کی رقم کی بدلے کپڑا لے لینے کی رخصت دے دی گئی ہے۔تاہم اصحاب الحدیث کی ایک جماعت اصل جنس کی ادایئگی پر اصرار کرتی ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت