فهرس الكتاب

الصفحة 3049 من 5274

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل

باب: غیر مسلم( ذمی لوگ )اپنا مال تجارت لے کر آئیں جائیں تو ان سے دسواں حصہ لیا جائے

3049 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ جَدِّهِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ وَعَلَّمَنِي كَيْفَ آخُذُ الصَّدَقَةَ مِنْ قَوْمِي مِمَّنْ أَسْلَمَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا عَلَّمْتَنِي قَدْ حَفِظْتُهُ إِلَّا الصَّدَقَةَ أَفَأُعَشِّرُهُمْ قَالَ لَا إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى النَّصَارَى وَالْيَهُودِ

حرب بن عبیداللہ بن عمیر ثقفی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو کہ بنو تغلب سے تھے ، انہوں نے کہا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور اسلام قبول کیا ، آپ ﷺ نے مجھے اسلام کے متعلق سمجھایا ، اور مجھے بتایا کہ میں اپنی قوم کے مسلمانوں سے کس طرح سے صدقہ وصول کیا کروں ۔ پھر میں آپ ﷺ کے پاس دوبارہ آیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! آپ نے جو کچھ تعلیم فرمائی تھی میں نے اسے یاد کر لیا ہے سوائے صدقہ کے ، تو کیا میں ان سے دسواں حصہ لیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " نہیں ، دسواں حصہ تو عیسائیوں اور یہودیوں پر ہوتا ہے ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت