فهرس الكتاب

الصفحة 3107 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: عیادت کے موقع پر بیمار کے لیے دعا

3107 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ إِلَى صَلَاةٍ

سیدنا ( عبداللہ ) بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جب کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے ' تو چاہیئے کہ یوں کہے «اللهم اشف عبدك ، ينكأ لك عدوا ، أو يمشي لك إلى جنازة» " اے اللہ ! اپنے بندے کو شفاء عنایت فر ' یہ تیری راہ میں کسی دشمن کو زخمی کرے گا یا تیری رضا کے لیے کسی جنازہ میں شریک ہو گا ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ ابن السرح ( احمد بن عمرو بن عبداللہ ) نے «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» روایت کیا ہے ۔ یعنی یہ بندہ نماز کیلئے جائے گا ۔

جہاد وقتال میں حصہ لینا ۔مسلمان کے جنازے میں شریک ہونا۔اور نماز کےلئے مسجد میں جانا۔انتہائی قربت کے اعمال ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت