فهرس الكتاب

الصفحة 3130 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: نوحے کا بیان

3130 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ ثَقِيلٌ فَذَهَبَتْ امْرَأَتُهُ لِتَبْكِيَ أَوْ تَهُمَّ بِهِ فَقَالَ لَهَا أَبُو مُوسَى أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى قَالَ فَسَكَتَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو مُوسَى قَالَ يَزِيدُ لَقِيتُ الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ لَهَا مَا قَوْلُ أَبِي مُوسَى لَكِ أَمَا سَمِعْتِ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَكَتِّ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَمَنْ سَلَقَ وَمَنْ خَرَقَ

سیدنا یزید بن اوس کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری ؓ کے ہاں گیا جب کہ وہ ( بیماری کے باعث ) بہت ہی تکلیف میں تھے ، تو ان کی بیوی رونے لگی یا اس کی تیاری کرنے لگی ۔ سیدنا ابوموسیٰ ؓ نے اس سے کہا: کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں سنا ؟ کہنے لگی: ہاں ، میں نے سنا ہے ۔ چنانچہ وہ خاموش ہو رہی ۔ جب سیدنا ابوموسیٰ ؓ کی وفات ہو گئی تو یزید کہتے ہیں کہ میں اس خاتون سے ملا اور اس سے پوچھا کہ وہ کیا بات تھی جو ابوموسیٰ نے آپ سے کہی تھی کہ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں سنا اور پھر آپ خاموش ہو رہی تھیں ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا " جو کوئی ( مصیبت میں ) بال مونڈے یا بین کرے ( یا منہ پیٹے ) یا کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت