فهرس الكتاب

الصفحة 3170 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت

3170 حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ

سیدنا ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا " جو کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور پھر اس پر چالیس آدمی کھڑے ہو کر جنازہ پڑھیں ' جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں ' تو اس میت کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی جاتی ہے ۔ "

جو لوگ اس بات کے متمنی ہوں کہ ان کی دعایئں قبول ہوا کریں۔اور بالخصوص اموات کے متعلق ان کی دعایئں منظور ہوں توچاہیے کہ شرک سے دور رہیں۔اور ایمان و تقویٰ کے تقاضے پورے کرنے والے بنیں۔2۔جنازے میں شرکت کےلئے موحدین (شرک وبدعت سے بیزار بری) حضرات کو بالخصوص اطلاع دی جائے۔ تاکہ مرنے والے کو فی الواقع فائدہ پہنچے۔مشرک ومبتدع لاکھوںاکھٹے ہوجایئں تو کیا فائدہ؟اور جنازے میں موحدین کی تعداد جس قدر زیادہ ہو مستحب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت