فهرس الكتاب

الصفحة 3176 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ

3176 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَمَرَّ بِهِ حَبْرٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ هَكَذَا نَفْعَلُ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اجْلِسُوا خَالِفُوهُمْ

سیدنا عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنازے کے لیے کھڑے رہتے تھے حتیٰ کہ اسے لحد میں اتار دیا جاتا ، ایک یہودی عالم کا آپ ﷺ کے پاس سے گزر ہوا تو اس نے کہا: ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں ۔ تو نبی کریم ﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا " بیٹھ جاؤ ۔ ان کی مخالفت کرو ۔ "

کفار کی مخالفت کرنے کا حکم ان کے دینی امور اور خاص قومی عادات میں ہے۔امورعامہ وعادیہ میں نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت