فهرس الكتاب

الصفحة 3226 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: قبر پر عمارت بنانا

3226 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ... بِهَذَا الْحَدِيثِ،

قَالَ أَبو دَاود: قَالَ عُثْمَانُ: أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ، وَزَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَوْ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ.

قَالَ أَبو دَاود: خَفِيَ عَلَيَّ مِنْ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ حَرْفُ وَأَنْ.

سیدنا سلیمان بن موسیٰ اور ابوالزبیر ؓ نے سیدنا جابر ؓ سے یہ حدیث بیان کی ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ عثمان بن ابی شیبہ نے کہا: " اس کو زیادہ کرنا منع ہے ( اسے اونچا کر دیا جائے ) ۔ " اور سلیمان بن موسیٰ نے مزید کہا: " اس پر کتبہ لگانا منع ہے ۔ " مگر مسدد نے اپنی روایت میں «أو يزاد عليه» کا لفظ ذکر نہیں کیا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ مسدد کی روایت میں میرے لیے لفظ «وأن» واضح نہیں ہوا تھا ۔

قبر پرمیت کے نام ونسب یا اس کی مدح ثنا کا کتبہ لگانا یا اللہ رسول کا نام یا قرآن لکھنا سبھی ناجائز ہے۔البتہ نشاندہی کےلئے کوئی مناسب نشان لگادیا جائے تو جائز ہے ۔جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر پرایک پتھر رکھا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت