فهرس الكتاب

الصفحة 3244 من 5274

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل

باب: جو شخص کسی کا مال مار لینے کے لیے قسم کھائے

3244 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا وَهِيَ فِي يَدِهِ قَالَ هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ قَالَ لَا وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْتَطِعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضُهُ

سیدنا اشعث بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ ( قبیلہ کندہ ) کندہ اور حضر موت کے دو آدمی اپنی ایک زمین کا تنازع لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ زمین یمن میں تھی ۔ حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میری زمین اس شخص کے باپ نے مجھ سے زبردستی چھین لی تھی اور یہ اب اس کے قبضے میں ہے ۔ آپ ﷺ نے پوچھا " کیا تمہارے کوئی گواہ ہیں ؟ " اس نے کہا: نہیں ۔ لیکن میں اسے قسم دیتا ہوں کہ ( وہ یہ کہے ) اللہ کی قسم ! وہ نہیں جانتا کہ وہ زمین میری ہے جو اس کے باپ نے مجھ سے زبردستی چھین لی تھی ۔ ادھر کندی آدمی بھی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو کوئی قسم اٹھا کر کسی کا مال مار لیتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ کوڑھی ہو گا ۔ " چنانچہ کندی نے کہا: یہ زمین اسی کی ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت