فهرس الكتاب

الصفحة 3262 من 5274

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل

باب: قسم کے ساتھ «إن شاء الله» کہنا

3262 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَمُسَدَّدٌ وَهَذَا حَدِيثُهُ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَإِنْ شَاءَ رَجَعَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حِنْثٍ

سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس نے قسم کھائی اور «إن شاء الله» کہا تو چاہے وہ اپنی قسم کو پورا کرے یا نہ کرے ' قسم نہیں ٹوٹے گی ۔

چونکہ تمام امور اللہ عزوجل کی مشیت سے پورے ہوتے ہیں۔اس لئے قسم میں بھی حسن ادب یہ ہے کہ مستقبل کے امور میں (ان شاء اللہ) کہہ لے۔اس طرح قسم کھانے کی صورت میں اگر کام نہ ہوسکا تو قسم نہیں ٹوٹے گی۔لیکن اگر قسم کھانے والا مخالفت کی نیت رکھتے ہوئے محض اپنے مخاطب کوتسلی دینے کےلئے (ان شاء اللہ) کہتا ہے۔تو یہ بہت بڑا گنا ہ ہے۔ (انما الاعمال بالنیات)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت