3300 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ فَسَأَلَ عَنْهُ قَالُوا هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ قَالَ مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ
سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فر رہے تھے ۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک آدمی دھوپ میں کھڑا ہے ۔ آپ ﷺ نے اس کے متعلق دریافت کیا ' تو لوگوں نے کہا: یہ ابواسرائیل ہے ۔ اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا ہی رہے گا ' بیٹھے گا نہیں ' نہ سایہ حاصل کرے گا اور نہ بات چیت کرے گا اور روزہ رکھے گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " اسے کہو کہ بات چیت کرے ' سایہ حاصل کرے اور بیٹھ جائے اور اپنا روزہ پورا کرے ۔ "
نماز میں لمبا قیام کرنا اور روزہ رکھنا افضل ترین عبادات ہیں۔علاوہ ازیں مذکورہ امور اوہام یاشیطانی اغوا ہیں۔ان کوعبادت فضیلت یا ولایت سمجھنا خالص جہالت ہے۔