فهرس الكتاب

الصفحة 3308 من 5274

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل

باب: میت کی طرف سے نذر پوری کرنا

3308 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ، فَنَذَرَتْ: إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَنَجَّاهَا اللَّهُ، فَلَمْ تَصُمْ، حَتَّى مَاتَتْ فَجَاءَتِ ابْنَتُهَا -أَوْ أُخْتُهَا- إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا

سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت سمندری سفر میں گئی تو اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی ۔ چنانچہ اللہ نے اسے نجات دے دی ' مگر اس نے روزے نہ رکھے حتیٰ کہ مر گئی ۔ پس اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھ لے ۔

میت کے زمے روزے رہتے ہوں تو وارثوں پرواجب ہے کہ اس کیطرف سے روزے رکھیں یا اس کا فدیہ دیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت