فهرس الكتاب

الصفحة 331 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: مقیم کے لیے تیمم کا بیان

331 حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْبُرُلُّسِيُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ ابْنِ الْهَادِ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ

جناب نافع نے ابن عمر ؓ سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ پاخانے سے فارغ ہو کر آئے تو آپ کو ایک آدمی ملا ۔ اس وقت آپ بئرجمل کے پاس تھے ۔ اس نے آپ ﷺ کو سلام کہا مگر رسول اللہ ﷺ نے اس کو جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ دیوار کے پاس آئے اور دیوار پر اپنا ہاتھ رکھا ، پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا ، پھر آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا ۔

مذکورہ دوروایات میں سے بھی دومرتبہ ہاتھ مارنے والی روایت منکر اورضعیف ہے۔اورایک مرتبہ ہاتھ مارنے والی صحیح ۔ اس لیے قابل عمل حدیث یہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت