فهرس الكتاب

الصفحة 3315 من 5274

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل

باب: نذر پوری کرنے کا حکم

3315 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهَا... نَحْوَهُ، مُخْتَصَرٌ مِنْهُ شَيْءٌ قَالَ: هَلْ بِهَا وَثَنٌ؟ أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ؟، قَالَ: لَا،قُلْتُ: إِنَّ أُمِّي هَذِهِ عَلَيْهَا نَذْرٌ وَمَشْيٌ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ -وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: أَنَقْضِيهِ عَنْهَا؟ -قَالَ: نَعَمْ.

جناب عمرو بن شعیب نے سیدہ میمونہ بنت کردم ؓا سے ' اس نے اپنے والد سے اسی کی مانند روایت کیا لیکن قدرے اختصار کے ساتھ ۔ آپ ﷺ نے پوچھا: " کیا وہاں کوئی بت تھا یا جاہلیت کا میلہ تھا ؟ " کہا: کچھ بھی نہیں ۔ میں نے کہا: میری اس والدہ کے ذمے نذر ہے اور پیدل چلنا ۔ کیا میں اسے اس کی طرف سے قضاء ادا کروں ؟ ( اور بالفاط ابن بشار ) کیا ہم اس کی طرف سے قضاء ادا کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " ہاں ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت