فهرس الكتاب

الصفحة 3353 من 5274

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل

باب: تلوار کے دستے کی چاندی کو چاندی کے روپوں سے بیچنا

3353 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْأُوقِيَّةَ مِنْ الذَّهَبِ بِالدِّينَارِ قَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ

سیدنا فضالہ بن عبید ؓ نے بیان کیا کہ خیبر والے دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور یہودیوں سے ایک اوقیہ سونا ( مساوی چالیس درہم ) ایک دینار میں خریدتے تھے ۔ قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا: دو یا تین دینار میں خریدتے تھے ' پھر دوسرے راوی حدیث کے اگلے الفاظ بیان کرنے میں متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " سونے کو سونے سے مت بیچو سوائے اس کے کہ وزن برابر برابر ہو ۔ "

سونے کا تبادلہ سونے کے ساتھ یا چاندی کا چاندی کے ساتھ ہو تو وزن برابر برابر اور معاملہ نقد ہونا ضروری ہے۔ورنہ سود ہوگا۔سونا کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ہونے کی صورت میں علیحدہ کرلیا جائے۔مخلوط اشیاء میں سونے یا چاندی کے صحیح وزن کا تعین اس وقت تک نہیں ہوسکتا۔ جب تک ان کو الگ الگ نہ کرلیا جائے پھر سونے یا چاندی کے ساتھ لگی ہوئی ہر چیز کی الگ قیمت بھی متعین ہوجائےگی اور سود کا امکان بھی نہ رہے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت