فهرس الكتاب

الصفحة 3372 من 5274

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل

باب: پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ہی فروخت کر دینا

3372 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَمَا ذُكِرَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ قَدْ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ وَأَصَابَهُ قُشَامٌ وَأَصَابَهُ مُرَاضٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا فَلَمَّا كَثُرَتْ خُصُومَتُهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا فَإِمَّا لَا فَلَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ

یونس کہتے ہیں میں نے جناب ابوالزناد سے پوچھا کہ پھلوں کو ان کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کرنا کیسا ہے اور اس بارے میں کیا آیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا: جناب عروہ بن زبیر بواسطہ سہل بن ابی حثمہ ' سیدنا زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کرتے تھے کہ لوگ پھلوں کو ان کی صلاحیت نمایاں ہونے سے پہلے فروخت کر دیا کرتے تھے ۔ پھر جب لوگوں کے پکے پھل چننے کا وقت آتا اور ان کے تقاضا کرنے والے آتے تو خریدار کہتے کہ پھل کو سڑاؤ ' جھڑاؤ اور آفت لگ گئی ہے اور اس طرح وہ سودے میں حیل و حجت کرتے ' جب ان لوگوں کے مقدمات نبی کریم ﷺ کے پاس بہت زیادہ آنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں بطور مشورہ فرمایا " اگر تم ان تنازعات سے باز نہیں آتے ہو تو اپنے پھل ان کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے بیچا ہی نہ کرو ۔ "

ابتداء میں یہ ممانعت بطور مشورہ تھی۔جس طرح اس سے پہلے والی روایات کے الفاظ سے ظاہر ہوتاہےمگر بعد میں اسے حکما نافذ کردیا گیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت