فهرس الكتاب

الصفحة 3391 من 5274

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل

باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینا

3391 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدٍ قَالَ كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنْ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْهَا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ

سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ نے بیان کیا کہ ہم اپنی زمینیں کرائے ( بٹائی ) پر دیا کرتے تھے اور ساتھ ہی یہ طے ہوتا تھا کہ جو کچھ نالیوں پر پیدا ہو گا یا جس حصے کو از خود پانی پہنچتا ہو ( تو وہ مالک کا ہو گا ) رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فر دیا ۔ اور حکم دیا کہ ہم اپنی زمین سونے یا چاندی ( کرنسی ) کے بدلے کرایہ پر دیں ( یعنی متعین رقم پر ٹھیکہ کر لیا کریں ) ۔

یہ روایت سند ا ضعیف ہے۔ تاہم ایک ہی کھیت کے مختلف حصوں کی پیداوار پر مختلف طریقوںسے حق رکھنا تنازع کا سبب بنتا ہے۔ اس میں دونوں کے حقوق صحیح طور پرمتعین بھی نہیں ہو پاتے۔اس لئے سارا حساب کتاب ایک ہی دفعہ کرکے متعین نقدی کے عوض کرایہ پر زمین دےدینے کی صورت میں اختیارکرنے کی تلقین کی گئی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت