فهرس الكتاب

الصفحة 3401 من 5274

کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل

باب: بٹائی کے ممنوع ہونے کا بیان

3401 قَالَ أَبُو دَاوُد قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قُلْتُ لَهُ حَدَّثَكُمْ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَاءَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ فَقَالَ أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ

عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ میں یتیم تھا اور ( اپنے دادا ) سیدنا رافع بن خدیج ؓ کی سرپرستی میں تھا ۔ میں نے ان کے ساتھ حج بھی کیا ۔ میرا بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آیا اور کہا کہ ہم نے اپنی زمین فلاں عورت کو دو سو درہم کے بدلے ٹھیکے پر دے دی ہے ۔ تو انہوں نے کہا کہ اسے چھوڑ دو ۔ نبی کریم ﷺ نے زمین کرائے ( ٹھیکے ) پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔

یہ روایت سندا ضعیف ہے۔خود حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزارعت کی جس صورت کے ممنوع ہونے کی خبر دی ہے۔یہ ایسی ہی صورت پردی گئی ہوگی اس لئے اسے منسوخ کرادیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت