فهرس الكتاب

الصفحة 342 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: جمعے کے لیے غسل کا بیان

342 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحٌ إِلَى الْجُمُعَةِ وَعَلَى كُلِّ مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْغُسْلُ قَالَ أَبُو دَاوُد إِذَا اغْتَسَلَ الرَّجُلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَجْزَأَهُ مِنْ غُسْلِ الْجُمُعَةِ وَإِنْ أَجْنَبَ

ام المؤمنین سیدہ حفصہ ؓا نبی کریم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا " ہر بالغ پر جمعہ کے لیے جانا ( لازم ) ہے ۔ اور ہر وہ شخص جس پر جمعہ کے لیے جانا ( لازم ) ہے ، اس پر غسل ہے ۔ " امام ابوداؤد ؓ نے کہا: اگر کسی نے طلوع فجر کے بعد غسل کر لیا ، خواہ جنابت ہی سے ہو تو یہ اس کے لیے غسل جمعہ سے کافی ہے ۔

: ہربالغ کےلیے جمعہ واجب ہےبشرطیکہ معذور نہ ہواوربتصریح حدیث نبوی بچہ،عورت ،غلام اورمسافر مستثنیٰ ہیں۔مسافر کےلیے بھی یہ ہےکہ وہ اپنے سفر میں رواں ہو،اور اگر کسی منزل پرٹھہرا ہوا ہو اورقریب میں جمعہ بھی ہورہا ہواور کوئی معقول عذر شرعی بھی نہ ہوتو ایسی صورت میں جمعہ میں حاضر ی ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت