فهرس الكتاب

الصفحة 3432 من 5274

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

باب: سناروں کی کمائی کا بیان

3432 حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُرَقِيُّ عَنِ ابْنِ مَاجِدَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... مِثْلَهُ.

ابن ماجدہ سہمی نے بواسطہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ نبی کریم ﷺ سے اس حدیث کی مثل روایت کیا ۔

فائدہ۔مذکورہ تینوں روایات ضعیف ہیں۔ سونے چاندی کی بیع کرنے والے اور اس کے زیورات بنانے والے (یعنی سنار) نبی کریمﷺ کے دور میں موجود تھے۔آپﷺ سے پہلے بھی تھے اور بعد میں بھی رہے ہیں۔حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حرم مکہ کی اذخر (گھاس) کے حلال رکھے جانے کی ایک علت یہی بیان کی تھی کہ یہ ہمارے گھروں میں استعمال ہوتی ہے۔اور صراف لوگ بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔علاوہ ازیں کئی طرح سے ثابت ہے کہ سنار کی کمائی امانت ودیانت کی شرط پر ایک حلال کمائی ہے۔اور اس میں کوئی عیب نہیں عیب تو خیانت اور جھوٹ میں ہے۔خواہ کسی میں ہو۔کہیں بھی ہو۔ (صحیح البخاری۔البیوع باب ما قیل فی الصواع)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت