فهرس الكتاب

الصفحة 3453 من 5274

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

باب: دھوکا دینا اور ملاوٹ کرنا حرام ہے

3453 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ يَحْيَى: قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ هَذَا التَّفْسِيرَ: لَيْسَ مِنَّا: لَيْسَ مِثْلَنَا.

یحیی بیان کرتے ہیں کہ کہ جناب سفیان رحمتہ اللہ ناپسند کرتےتھے ۔ [لیس منا] کی تفسیر [لیس مثلنا] سے کی جائے

فائدہ [لیس منا] کامعنی ہم میں سے نہیں ۔ اور [لیس مثلنا] کے معنی ہیں ۔ ہماری مثل اورہمارے جیسا نہیں ۔اورامام سفیان رحمہ اللہ کاقول کامفہوم یہ ہے کہ غلط کام سے ڈرانے اورروکنے کےلیے شدت اورسختی ہی مفید ہوتی ہے اس لیے آپ ﷺکےالفاظ کی نرم نرم تعبیر ہرگزنہیں کرنی چاہیے ۔ان الفاظ کوایسے ہی بیان کرنا چاہیے جیسے کہےگئے ہیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت