فهرس الكتاب

الصفحة 3455 من 5274

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

باب: بیع میں لینے دینے والوں کے لیے اختیار کا بیان

3455 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... بِمَعْنَاهُ، قَالَ: أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اخْتَرْ.

سیدنا ابن عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اس حدیث کے ہم معنی روایت کیا ۔ فرمایا " یا کوئی دوسرے کو یوں کہہ دے کہ ( ابھی ) پسند کر لو ۔ "

فائدہ۔سودا کرتے ہوئے دوکاندار یا خریدار یوں کہہ دے کہ ابھی دیکھ لو پسند کرلو۔اور دوسرے نے اسے پسند کرلیا تو سودا ہوجائےگا۔اور منسوخ کرنے کا حق نہ رہے گا۔خواہ ان کی مجلس کتنی ہی طویل کیوں نہ ہوجائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت