فهرس الكتاب

الصفحة 3496 من 5274

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

باب: غلہ اپنے قبضے میں لینے سے پہلے ہی فروخت کرنا

3496 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ زَادَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ قَالَ أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَتَبَايَعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرَجًّى

سیدنا ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس نے غلہ خریدا ہو تو اسے فروخت نہ کرے حتیٰ کہ ناپ لے ۔ " ( اپنے قبضے میں لے لے ۔ ) ( راوی ) ابوبکر نے مزید کہا کہ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے ؟ انہوں نے کہا: کیا دیکھتے نہیں ہو کہ لوگ اسے سونے کے بدلے خرید لیتے ہیں ، حالانکہ وہ ( غلہ ) ابھی بہت دور ہوتا ہے ۔ ( فروخت کرنے والے کے پاس پہنچا ہی نہیں ہوتا ) ۔

فائدہ۔ان تعلیمات کی حکمتیں واضح ہیں۔مقصد یہ ہے کہ منڈی میں جمود نہ رہے۔مال اور سرمایا حرکت میں آئے۔مزدوروں کو مزدوری اور لوگوں کورزق آسانی اور ارزانی سے ملے۔آجکل اشیاء کے مہنگے ہونے کا بڑا سبب ہی یہی ہے۔کہ مال ایک جگہ سٹور میں پڑا ہوتا ہے۔ اورسرمایا دار اسے وہیں ا یکدوسرے کو فروخت کرتے چلے جاتے ہیں۔یا مال ابھی ایک خریدار کے قبضے میں آیا نہیں ہوتا کہ وہ اسے آگے فروخت کردیتا ہے۔اور وہ پھر اسے آگے فروخت کردیتا ہے۔یہ سب صورتیں شرعی اصولوں سے متصادم ہیں۔اوران کا حاصل کمرتوڑ مہنگائی ہے۔ولاحول ولا قوۃ الا باللہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت